18 مئی 2026 - 20:45
حصۂ اول | اگلی جنگ کے قواعد 'مستقل تسدید' کی بنیاد پر، ہونگے

مستقبل کی ممکنہ جنگ ایران کی طرف سے جنگ کے قواعد میں تبدیلی کے ساتھ ہوگی؛ اب نہ تو امریکی اڈے، بلکہ ایرانی کاروائیوں کے مختصات مستقل اور دیرپا تسدید (Lasting Deterrence) کی تعریف کے مطابق ہونگے اور دوبارہ غلطی پر اصرار کرنے والے، مغرب کے شریک جرم ممالک، کے لئے بهی درس عبرت بن جائیں گے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی جمہوریہ ایران 40 روزہ مسلط کردہ جنگ (تیسرے دفاع مقدس) میں اس طرف سے آگے بڑھا کہ اس نے خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ یہ اڈے جو خطے اور پڑوسی ممالک میں موجود تھے اور بدقسمتی سے بعض عرب ممالک نے ہمسایگی کے اصولوں کا خیال نہیں رکھا اور اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف دشمن کا مورچہ بنا دیا، ایران کا جائز ہدف بن گئے۔

لیکن خطرات اور دوسری جنگ کا معاملہ پھر سے نئی تبدیلیوں سے دوچار ہوگا۔ انقلاب اسلامی کے رہبرِ شہید نے علاقائی وسعتوں میں جنگ پر بات کی اور فرمایا: "امریکی جان لیں کہ اگر اس بار جنگ چھیڑ دی گئی تو یہ علاقائی جنگ ہوگی۔" یہی بات وقوع پذیر ہوئی اور ایران کی فوجی حکمت عملی نے رہبرِ شہید کے احکامات پر وفاداری سے عمل کیا؛ تاہم یقیناً، اگلی ممکنہ جنگ کے مختصات 40 روزہ مسلط کردہ جنگ سے نمایاں طور پر مختلف ہوں گے۔

"جس طرح کہ جنگ رمضان (2026) نے 12 روزہ مسلط کردہ جنگ (2025) سے واضح طور پر مختلف تھی، اسی طرح یقیناً مستقبل میں بھی اگر امریکہ اور اس کے حلیفوں کی تزویراتی غلطی کی وجہ سے ایران کے خلاف کوئی اور جنگ چھیڑ دی جاتی ہے، تو پہلی ہی مرتبہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران کی طرف سے سرخ لکیریں اور جنگ کی وسعت زیادہ کہیں بڑھ کر اور زیادہ مہلک اور کہیں زیادہ تباہ کن ہونگی۔

جو چیز ایران کی فوجی منصوبہ بندی نے واضح کر دی ہے، وہ یہ ہے کہ میدان میں حیرت انگیزی اس کی فوجی کارروائیوں اور آپریشنز کا لازمی جز ہے۔

اسی تناظر میں ایران کی جنگ کی وسعت، گہرائی اور تباہ کن ضربیں، جنگ رمضان سے مختلف ہوں گی اور خطے کے ممالک شاید علاقائی جنگ کی گہرائی کو زیادہ بہتر انداز سے چکھ لیں گے۔ خاص طور پر اس لئے کہ پردے ہٹ چکے ہیں اور اس حوالے سے ان ممالک کی تعاون کی نوعیت، ان کی ترغیبات، سازوسامان اور ان کی سرزمین کا استعمال زیادہ عیاں ہو چکا ہے۔

جنگ کی وسعت پہلا موضوع ہے جو مختلف ہو سکتا ہے لیکن اہداف اور حقائق کے پیش نظر، حملوں میں نئی تبدیلیاں آئیں گی۔

اسی تناظر میں، ایران مستقل، پائیدار فیصلہ کن تسدید کی حکمت عملی اپنائے گا اور اسی لئے وہ ممالک جنہوں نے خود کو مغرب کے اہداف کے مطابق جنگ کا آلہ کار بنا لیا ہے، اہم اور تسدیدی اہداف بن جائیں گے۔

اس واقعے کا اعادہ ایران کو اس یقین تک پہنچا سکتا ہے کہ امریکی اڈوں کا مسئلہ درحقیقت اصل مسئلہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ممالک ہیں جو خطے میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کے حلیف اور اتحادی ہیں جن کی اصلاح ایک زیادہ سنجیدہ اور فیصلہ کن اقدام کا تقاضآ کرتی ہے۔

ان ممالک کے ساتھ ہمسایگی کو یقیناً ایران کے مستقبل کے لئے مثبت معنی کا حامل ہونا چاہئے۔ بصورت دیگر ایران جیسے بڑے اور وسیع پڑوسی ملک کے خلاف ایک اسٹراٹیجک سیکورٹی غلطی کا ارتکاب اور جارح کو سزا نہ دینا، ان کے افکار میں غلط اندازوں کو مزید فروغ دے سکتا ہے۔

ایسے ماحول میں، ایران اب محض خطرے کو بے اثر کرنے کے درپے نہیں ہے، بلکہ مستقبل تسدید کو مستحکم کرتے ہوئے، ممکنہ اور موجودہ موجودہ اور ممکنہ جارحین کو مستقبل کے سلامتی کے فارمولے سے ہٹا دینے کے لئے کوشاں ہے، اور ان کی اصلاح کرکے کسی بھی بیرونی خطرے کا حصہ بننے سے مستقبل طور پر روکے رکھنا چاہتا ہے۔

اسی تناظر میں، اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمان کے سربراہ (اسپیکر) ڈاکٹر 'محمد باقر قالیباف' چیئرمین مجلس شورائے اسلامی نے کسی بھی منظر نامے کا سامنا کرنے کے لئے ملکی استعداد کی طرف اشارہ کیا اور حیرت زدہ کرنے والے عنصر پر زور دیتے ہوئے لکھا: 'ہماری مسلح افواج کسی بھی جارحیت کا سبق آموز جواب دینے کے لئے تیار ہیں؛ غلط حکمت عملیوں اور غلط فیصلوں کا نتیجہ ہمیشہ غلط ہی ہوتا ہے، پوری دنیا پہلے ہی یہ سمجھ چکی ہے۔ ہم تمام آپشنز کے لئے تیار ہیں؛ [دشمن] حیران رہ جائیں گے۔'

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: امیر حمزہ نژاد

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha